پاکستانی ایجنسیوں کی جانب سے بلوچ عورتوں کی جبری گمشدگیاں بلوچ نسل کشی کی بدترین شکل۔
شولان بلوچ: ترجمان بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
پاکستانی ایجنسیوں کی جانب سے بلوچ عورتوں کی بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیاں بلوچ نسل کشی کی بدترین شکل ہیں اور عالمی انسانی حقوق کے اداروں کی خاموشی باعثِ تشویش ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی عالمی ضمیر کو جڑ سے ہلا دیتی ہے۔
پاکستانی عسکری اداروں کی جانب سے بلوچ روایتوں کو پامال کرنا اور بلوچ عورتوں کی عصمت دری ناقابلِ برداشت ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچ عورتوں کو اجتماعی سزا کے طور پر جبری طور پر گمشدہ کیا جاتا ہے، انہیں اذیت دی جاتی ہے، ان پر فیک الزامات عائد کر کے میڈیا ٹرائل کے ذریعے ان کی عزت و آبرو کو عام لوگوں کے سامنے بے وقعت کیا جاتا ہے اور ضعیف و بیمار عورتوں کو تشدد کے لیے ٹارچر سیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ پاکستانی عسکری اداروں کو بلوچستان میں اس قدر آزادی دے دی گئی ہے کہ وہ عام آبادیوں پر ڈرون حملوں اور جدید اسلحہ سے بمباری کرتے ہیں، اور “کاؤنٹر ٹیررازم” جیسے استعماری بیانیے کے پیچھے اپنی بلوچ نسل کشی کی پالیسیوں کو جواز فراہم کرتے ہیں۔
یہ حالت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ پاکستانی ریاست بلوچ عورتوں کو جبری گمشدگیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔ حالانکہ یہ کارروائیاں تمام بین الاقوامی جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اس ظلم پر عالمی انسانی حقوق کی خاموشی ان عالمی اداروں کی بے حسی کو ظاہر کرتی ہے جو اس جرم میں پاکستانی عسکری اداروں کے شریک ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستانی خفیہ ادارے اور ان کے زیر اثر ڈیتھ اسکواڈ بلوچ عورتوں کو ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ صورتحال بلوچ قوم کے لیے ایک سنگین بحران ہے۔ بلوچ سیاسی رہنماؤں کی قید و بند بھی اسی جابرانہ پالیسی کا حصہ ہے۔ پاکستانی ریاست دراصل بلوچ سماج میں بڑھتی ہوئی سیاسی و سماجی شعور سے خوفزدہ ہے اور بلوچ عوام کی مزاحمت کو کچلنے کے لیے یہ تمام اقدامات کر رہی ہے۔
اب پاکستان کا مقصد یہ ہے کہ وہ بلوچ عورتوں پر اس سنگین ظلم و جبر کو معمول بنا دے تاکہ وہ عوامی ردعمل اور عالمی احتجاج سے بچ سکیں۔ بلوچ عورتوں پر ظلم کی شدت اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے اور اس کا تدارک ضروری ہو چکا ہے۔
واضح رہے پاکستان نے 1971 میں بنگلہ دیش میں جو ظلم ڈھائے وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی کی تحریک کے دوران پاکستانی فوج نے لاکھوں بے گناہ عوام کو ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ خاص طور پر بنگالی خواتین کو اجتماعی زیادتیوں، قتل و غارتگری اور جبری گمشدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ پاکستانی فوج کی طرف سے کیے گئے ان جرائم کو عالمی سطح پر جنگی جرائم کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ پاکستانی حکام نے بنگالی قوم کو کچلنے کے لیے ایک منظم نسل کشی کی پالیسی اپنائی تھی۔
آج پاکستان میں بلوچ عورتوں کے ساتھ وہی جابرانہ رویہ اور نسل کشی کی خواہش دیکھی جا رہی ہے، جو ایک وقت میں بنگلہ دیش میں تھی۔ بلوچ عورتیں بھی پاکستانی ریاست کی پالیسیوں کا شکار ہو رہی ہیں جہاں انہیں اجتماعی سزا کے طور پر اغوا کیا جا رہا ہے، ان کی عزت کو پامال کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف ریاستی تشدد اور ظلم کا بازار گرم ہے۔ یہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نے بنگلہ دیش میں کیے گئے مظالم کو ختم کرنے کے بجائے ان ظالمانہ طریقوں کو بلوچستان میں اپنایا ہے۔ پاکستان کی ریاستی خواہش ہے کہ وہ بلوچ عوام کو اسی طرح کچلے جیسے اس نے بنگالی عوام کو 1971 میں کچلا تھا۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس کا فوری طور پر عالمی سطح پر محاسبہ ہونا چاہیے تاکہ بلوچ عورتوں کے ساتھ ہونے والی جابرانہ کارروائیوں کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ہم بحیثیتِ بلوچ طلباء تنظیم عالمی اداروں سے ایک بار پھر درخواست کرتے ہیں کہ وہ پاکستانی حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں، اور انہیں بلوچ نسل کشی کی پالیسیوں کا جوابدہ بنائیں۔ پاکستانی فوجی و عسکری اداروں کی طرف سے بلوچ عورتوں کو دن دہاڑے اغوا کرنا اور ان پر ظلم و جبر کا ایک تسلسل پورے ریجن میں بے چینی اور اضطراب کا ماحول پیدا کر رہا ہے۔
آخر میں ہم بلوچ قوم سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان جابرانہ پالیسیوں کے خلاف شدید مزاحمت کا راستہ اپنائیں اور ان جبر کو نارملائز کرنے سے پہلے خاتمہ کیا جائے۔ بلوچ سیاسی اور عام عورتوں کو وہ ماحول فراہم کریں جس میں وہ پاکستانی عسکری اداروں کی طرف سے ظلم و جبر کے بغیر ایک محفوظ و سازگار زندگی گزار سکیں۔