دوستین: غیاب میں موجود ایک انسان-ابرم بلوچ

دوستین: غیاب میں موجود ایک انسان
ابرم بلوچ

8 جون کو جب بلوچ لاپتہ افراد کے دن کے موقع پر ہم جبری گمشدگیوں کی طویل فہرست پر نظر ڈالتے ہیں تو وہاں ہمیں صرف نام دکھائی نہیں دیتے۔ نام دراصل انسانی وجود کے وہ نشانات ہوتے ہیں جن کے پیچھے ایک پوری کائنات آباد ہوتی ہے۔ ہر نام ایک زندگی کا خلاصہ، ایک خواب کی تعبیر، ایک خاندان کی تاریخ اور ایک شعور کی داستان ہوتا ہے۔ انہی ناموں میں ایک نام دوستین کا بھی ہے، جو 18 مارچ 2014 سے جبری گمشدگی کا شکار ہے۔ 12 برس گزر چکے ہیں، مگر دوستین کی گمشدگی وقت کے اندھیروں میں گم نہیں ہوئی۔ بعض انسان اپنی جسمانی موجودگی سے زیادہ اپنی فکری موجودگی کے ذریعے زندہ رہتے ہیں، اور دوستین انہی لوگوں میں سے ایک ہے۔

انسان صرف گوشت پوست کا نام نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو جبر کے نظام کسی شخص کو غائب کرکے اس کا وجود بھی ختم کر دیتے۔ مگر تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت جسموں کو قید کر سکتی ہے، خیالات کو نہیں؛ انسانوں کو چھین سکتی ہے، یادوں کو نہیں؛ زندگیوں کو روک سکتی ہے، مگر معنویت کو نہیں۔ دوستین کی کہانی بھی اسی حقیقت کا ایک مظہر ہے۔ وہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر اس کا فکر، اس کا کردار اور اس کی یاد اجتماعی شعور میں ایک زندہ حقیقت کی صورت موجود ہے۔

دوستین بظاہر ایک خاموش اور نرم مزاج نوجوان تھا، مگر بعض خاموشیاں شور سے زیادہ گہری ہوتی ہیں۔ وہ ان لوگوں میں شامل نہیں تھا جو اپنی موجودگی کو نمایاں کرنے کے لیے بلند آواز اختیار کرتے ہیں۔ اس کی شخصیت اس فلسفیانہ حقیقت کی یاد دلاتی تھی کہ علم کی پہلی علامت بولنا نہیں بلکہ سننا ہے، اور شعور کی پہلی شرط غالب آنا نہیں بلکہ سمجھنا ہے۔ وہ گفتگو کو فتح و شکست کا میدان نہیں بلکہ سچائی کی تلاش کا عمل سمجھتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے ساتھ ہونے والی بحث اختلاف کے باوجود تلخی پیدا نہیں کرتی تھی بلکہ فہم کے نئے دروازے کھولتی تھی۔

2012 اور 2013 کا زمانہ بلوچ قومی تحریک کے لیے ایک پیچیدہ دور تھا۔ اختلافات اپنی شدت پر تھے، اعتماد کمزور پڑ رہا تھا اور سیاسی ماحول بدگمانی سے بھر رہا تھا۔ ایسے حالات میں اکثر معاشرے دلیل سے زیادہ تعصب اور مکالمے سے زیادہ الزام تراشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ جب اجتماعی شعور خوف اور عدم اعتماد کے زیر اثر آ جائے تو لوگ ایک دوسرے کو سننے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف بولنے لگتے ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرے کو ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو اختلاف کے باوجود مکالمے کی روایت کو زندہ رکھ سکیں۔ دوستین ایسے ہی لوگوں میں سے تھا۔ وہ اختلاف کے سمندر میں مکالمے کا ایک پل تھا۔ زہر آلود ماحول میں مثبت انسان کی موجودگی محض ایک فرد کی موجودگی نہیں ہوتی بلکہ ایک پوری روایت کی موجودگی ہوتی ہے۔ دوستین دراصل اسی روایت کا نمائندہ تھا۔

جنگِ آزادی اور مسلح جدوجہد کے سوال پر دوستین کی فکری وضاحت غیر معمولی تھی۔ وہ جنگ کو محض عسکری عمل کے طور پر نہیں بلکہ ایک تاریخی، سیاسی اور نفسیاتی مظہر کے طور پر دیکھتا تھا۔ جب وہ جنگ اور مسلح جدوجہد پر گفتگو کرتا تو محسوس ہوتا کہ وہ محض واقعات بیان نہیں کر رہا بلکہ ان کے پیچھے موجود تاریخی منطق کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے اس کی گفتگو میں جذبات ضرور ہوتے تھے، مگر وہ جذبات علم سے جنم لیتے تھے۔ اس کا یقین مطالعے سے پیدا ہوتا تھا، اور اس کی وابستگی شعور سے۔ شاید اسی لیے اس کی بات سننے والا شخص صرف قائل نہیں ہوتا تھا بلکہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا تھا۔

وقت کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کو بدل دیتا ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، حالات بدل جاتے ہیں، ترجیحات بدل جاتی ہیں، مگر کچھ انسان وقت کے بہاؤ سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وہ یادوں میں نہیں بلکہ اقدار میں محفوظ ہو جاتے ہیں۔ دوستین بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔ آج جب اس کا ذکر ہوتا ہے تو ذہن میں صرف ایک شخص کی تصویر نہیں ابھرتی بلکہ علم، شائستگی، برداشت اور فکری دیانت کی ایک پوری روایت سامنے آ جاتی ہے۔

8 جون میرے لیے صرف دوستین اور اس جیسے بے شمار لاپتہ ساتھیوں کو یاد کرنے کا دن نہیں، بلکہ اس بنیادی سوال پر غور کرنے کا دن بھی ہے کہ آخر وہ کون سا فکر، کون سا یقین اور کون سا خواب ہے جس کے باعث یہ لوگ دشمن کے ٹارچر سیل میں بھی نہ ٹوٹتے ہیں اور نہ ہی بکتے ہیں۔ بلکہ نظریاتی اور فکری حوالےسے دشمن کو شکست دیتے ہیں۔

ہر سال جب جبری گمشدگیوں کا دن آتا ہے تو دوستین، زاکر جان اور دیگر لاپتہ ساتھیوں کی یادیں ایک بار پھر زندہ ہو جاتی ہیں۔ یہ یادیں یقیناً اذیت دیتی ہیں، مگر یہ ہمیں ایک اور حقیقت بھی یاد دلاتی ہیں: نظریاتی انسانوں کو جسمانی طور پر غائب کیا جا سکتا ہے، مگر ان کے خیالات کو نہیں۔ ان کی غیر موجودگی ایک خلا ضرور پیدا کرتی ہے، لیکن اسی خلا سے نئے سوال جنم لیتے ہیں، نئے شعور پیدا ہوتے ہیں اور نئی نسلیں اپنے راستے تلاش کرتی ہیں۔ اور تاریخ کا سبق یہ ہے کہ یہ درد اور یہ یادیں شکست کا نام نہیں ہیں بلکہ مزاحمت کی ایک شکل بن چکے ہیں، درد نے قومی شعور کو گہرا کر دیا ہے۔۔

دوستین آج بھی اپنی عدم موجودگی میں موجود ہے؛ ایک یاد کے طور پر، ایک فکر کے طور پر، ایک روایت کے طور پر، اور اس یقین کے طور پر کہ انسان کی اصل زندگی اس کے جسم میں نہیں بلکہ ان معنوں میں ہوتی ہے جو وہ اپنے وقت اور اپنے لوگوں کے لیے چھوڑ جاتا ہے۔

Share to