سوراب میں بمباری اور قبضہ گیر کی تاریخ
لونگ خان بلوچ
اگر ہم تاریخ کے پنوں کو اپنے سامنے رکھ کر مشاہدہ کریں تو شاید اس بات کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں کہ قبضہ گیر اور محکوم قوم کا تعلق کیا ہے؟ دنیا میں طاقتور اقوام نے کمزور اقوام کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا؟ اور ہم اپنے آپ کو اسی زاویے سے عقلی اور شعوری بنیاد پر دیکھیں تو ہماری حقیقت کیا ہے؟
یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ بلوچ قوم پر ہونے والے ظلم و جبر کی کہانی کو کہاں سے شروع کیا جائے؟ کون سے الفاظ استعمال کروں اس ظلم کو بیان کرنے کے لیے جو بلوچ قوم پر مسلط ہے؟ اگر میں بلوچ قوم پر ہونے والے ظلم و جبر کو لکھنے کی کوشش کروں تو شاید الفاظ میرا ساتھ نہ دے سکیں۔ یہ کوئی مہینوں یا چند برسوں کی بات نہیں، بلکہ 1948 کے جبری قبضے سے لے کر آج تک بلوچ قوم کو ظلم و ستم کا سامنا ہے۔ تاریخ کے پنوں سے لے کر بلوچستان کی سرزمین تک، آج اُس غیر فطری ریاست کے جبر کے گواہ ہیں جو بلوچ قوم پر دہائیوں سے جاری ہے۔
محکوم بلوچ قوم پر اس ظلم کو مختلف صورتوں میں مسلط رکھا گیا ہے۔ کبھی بلوچ قوم کی صدیوں کی عظیم تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی تو کبھی ریاست بلوچ قوم کی شناخت کو حذف کرنے کے درپے رہی ہے۔ یہ ظلم صرف یہاں ختم نہیں ہوتا۔ 1948 سے لے کر آج تک پاکستان بلوچ قوم کی نسل کشی کر رہا ہے۔ چاہے وہ طلبہ و سیاسی کارکنوں کی جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں ہو، توتک کی اجتماعی قبریں اور نشتر ہسپتال کی چھت پر لاوارث لاشیں جس کی زندہ مثالیں ہیں، یا پروفیسر صباء دشتیاری، رزاق زہری، زاہد آسکانی اور حال ہی میں پروفیسر غمخوار حیات جیسے تعلیم یافتہ کرداروں کی ٹارگٹ کلنگ ہو۔
وہ ریاستی سرپرستی میں کام کرنے والے ڈیتھ اسکواڈز کے ہاتھوں بلوچ قوم کی نسل کشی ہو یا کینسر جیسی بیماریوں کی صورت میں ہو۔ جہاں ریاست کو موقع ملا، اُس نے ہر طریقے سے بلوچ کو مٹانے کی کوشش کی ہے۔ ہرظلم و جبر کے طریقے کو استعمال کرنے کے باوجود بھی پاکستان بلوچ قوم کو غلام بنانے میں ہمیشہ ناکام رہا۔ بلوچ نے ہر بار مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور غیر فطری ریاست کی غلامی سے انکار کیا، چاہے اُس کے لیے جان بھی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑی۔
پاکستان بلوچستان پر قبضہ جمائے رکھنے کے لیے اپنے آخری ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہا ہے۔ حال ہی میں 12 اگست 2026 کو سوراب میں اپنے لڑاکا طیاروں سے عام آبادی پر بمباری کی گئی۔ اس حملے میں 27 سے زیادہ عام بلوچ شہری شہید ہوئے، جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے لوگ شامل تھے، جبکہ درجنوں لوگ زخمی ہوئے۔ ان سب کا قصور صرف یہی تھا کہ وہ بلوچ تھے اور انہیں شناخت کی بنیاد پر ٹارگٹ کیا گیا۔ اس بمباری کا واحد مقصد بلوچ قوم میں خوف و ہراس پھیلانا تھا، تاکہ مظلوم قوم اپنی جدوجہد اور تحریک سے دستبردار ہو جائے۔ نہ ہی یہ قبضہ گیر کی اس طرح کی پہلی کوشش ہے، نہ ہی آخری ہوگی۔دنیا میں دیگر غلام اقوام میں ایسی مثالیں موجود ہیں، جس طرح کہ سری لنکا میں تامل ٹائیگرز کی تحریک کو کچلنے کے لیے سرِعام بمباری کی گئی۔ اسی طرح فلسطین میں جس قسم کی نسل کشی کی گئی، شاید اس کی مثال نہ مل سکے۔ تو یہ سوراب میں عام عوام پر بمباری کا پہلا واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان پہلے بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اپنے لڑاکا طیاروں سے عوام پر بمباری کر چکا ہے اور خوف و ہراس پھیلا کر قوم کو قومی تحریک سے دستبردار کرانے کی کوشش کر چکا ہے، اور ہمیشہ سے قبضہ گیروں کا یہی وطیرہ رہا ہے۔
اگر ہم 1948 سے لے کر آج تک جاری رہنے والی نسل کشی اور ظلم پر نظر ڈالیں تو بلوچ قوم پر کیے گئے وہ تمام مظالم ہمارے سامنے روشن کی طرح عیاں ہیں جو بلوچ قوم کو اُن کی سرزمین سے دستبردار کروانے کے لیے کیے گئے۔ جیٹ طیاروں کی بمباری سے بھی شاید بڑا ظلم وہ تھا جو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے اپنا ایٹمی تجربہ بلوچستان کے علاقے چاغی میں کیا، جس کے باعث وہاں کی آبادی متاثر ہوئی اور کچھ عرصے بعد وہاں لوگوں میں کینسر سمیت دیگر جسمانی بیماریاں وبا کی صورت اختیار کر گئیں۔ اس طرح چاغی کے وسائل پر قبضہ کر لیا گیا۔
ماضی کے پاکستانی لڑاکا طیاروں کی بمباری کی مثالیں دیکھیں تو مارچ 2005 میں ڈیرہ بگٹی اور پھر دسمبر 2005 میں کوہلو میں پاکستانی جنگی طیاروں سے بمباری کی گئی، جہاں سو سے زیادہ بلوچ شہید ہوئے۔ دسمبر 2012 میں مشکے میں عام آبادی پر پاکستانی جیٹ سے بمباری اور شیلنگ کی گئی۔ یہ ظلم اسی طرح بلوچ قوم پر جاری رہا۔ جنوری 2024 میں پنجگور کے شہر شم ء سر کے علاقے میں پاکستانی جیٹس سے بمباری کی گئی، جہاں دس سے زیادہ عام بلوچ شہید ہوئے، جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ پھر دسمبر 2025 میں زہری میں جنگی جہازوں سے بمباری کی گئی، جہاں ایک درجن کے قریب بلوچ شہید ہوئے۔
ریاستی مظالم کی یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قومی تحریک کی وجہ سے کس طرح بلوچ قوم کو اجتماعی سزائیں دی جا رہی ہیں۔
بلوچستان میں پاکستانی ریاست روزانہ کی بنیاد پر عام آبادی پر حملہ آور ہوتی ہے، کبھی جیٹ سے بمباری کرتی ہے تو کبھی ڈرون طیاروں سے عوام کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس طرح روزانہ کی بنیاد پر کراچی سے لے کر ڈی جی خان تک بلوچ نوجوانوں، عورتوں، بزرگوں اور بچوں کی جبری گمشدگیاں جاری ہیں۔ ہر دن نئے طریقے سے بلوچوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے۔ ہماری تاریخ اور روایات ہمیں ظلم کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کا درس دیتی ہیں۔ بلوچ ایک ایسی قوم ہے جو کسی بھی قوم پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی رہی ہے۔ تو آج بلوچ اتنا کچھ کیوں برداشت کر رہا ہے؟
اس غیر فطری ریاست کے لیے بلوچ ہمیشہ سے اس کا دشمن رہا ہے۔ بلوچ کے دشمن نے تو کبھی بلوچ پر رحم نہیں کھایا، نہ ہی ہمیں یہ امید رکھنی چاہیے، بلکہ بقول چیئرمین غلام محمد، کہ یہ جنگ ہم نے شروع کی ہے اور ہم اس جہدِ آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج ہم خاموشی سے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، بلکہ ہماری یہ خاموشی ہمیں ریاستی جارحیت کا حمایت کار بناتی ہے۔ ہم شاید چیئرمین غلام محمد کو بھول گئے ہیں، شاید ہمیں بابا مری کی وہ باتیں یاد نہیں جب وہ کہتے ہیں کہ بلوچ قوم کے پاس آج مزاحمت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
بلوچ قوم آج اس غیر فطری ریاست کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہی ہے، تو ہر فرد کو اپنی تاریخ اور روایات کو زندہ رکھنا ہوگا اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔ بلوچ تحریک میں اپنی ذمہ داریوں کو سرانجام دینا ہوگا اور اپنی سرزمین، شناخت اور تاریخ کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہوگا، تاکہ دشمن کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ ہم بلوچستان کے اصلی وارث ہیں۔ اور بلوچ قوم کا ہر فرد اپنی آخری سانس تک مزاحمت جاری رکھے گا۔