بلوچستان میں جبر کی تاریخ اور جبری نقل مکانی، وسائل پر کنٹرول۔ تحریر لونگ خان

بلوچستان میں جبر کی تاریخ اور جبری نقل مکانی، وسائل پر کنٹرول۔

تحریر لونگ خان

جب کوئی قبضہ گیر کسی جگہ قبضہ کرتا ہے تو وہ اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ اس کی پالیسی سوفٹ ہو یا ہارڈ، وہ ہر قسم کے ظلم و جبر کا سہارا لیتا ہے تاکہ اپنی حاکمیت کو قائم رکھ سکے۔ قبضہ برقرار رکھنے کے لیے وہ ظلم و جبر میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔

اگر ہم دنیا کی غلام قوموں پر نظر ڈالیں تو ہمیں ہر وہ ظلم و جبر نظر آتا ہے جو ایک قبضہ گیر اپنا قبضہ جمانے کے لیے غلام قوموں پر کرتا ہے۔ اس کے لیے مختلف پالیسیاں استعمال کی جاتی ہیں۔ لوگوں کو تعلیم سے دور رکھنا، ان کی زبان، تاریخ اور ثقافت کو کمزور اور تباہ کرنے کی کوشش کرنا، ان میں سے اہم پالیسیاں ہیں۔

ظالم و جابر ہمیشہ محکوم قوم کو روزگار، تعلیم اور اچھے انفراسٹرکچر جیسے مسائل میں الجھائے رکھتا ہے تاکہ محکوم یا غلام قوم کچھ اور سوچ نہ سکے اور انہی مسائل میں الجھی رہے، جو کبھی ان کے بنیادی مسائل تھے ہی نہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی اصلیت کو پہچاننے کی کوشش نہ کرے اور ہمیشہ غلامی کی زنجیروں میں بندھا رہے۔

اگر کوئی محکوم قوم ان تمام مسائل سے نکل جائے تو وہ اپنی شناخت، ثقافت اور زبان کو بچانے کی کوشش کرتی ہے اور اپنی اصلی تاریخ کو ڈھونڈنے لگتی ہے۔ اسی طرح ظالم بھی اپنے ظلم اور بربریت میں کمی نہیں کرتا۔ اگر کسی معاشرے میں سیاسی شعور پیدا ہونے لگے تو وہاں کے لوگ اپنی شناخت اور ثقافت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، اور ظالم اپنے ظلم کے ذریعے ان کے سیاسی شعور کو منتشر کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ وہ انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کرتا ہے اور وہاں دوبارہ اپنا سیاسی و فوجی کنٹرول مضبوط کر لیتا ہے۔

اگر ہم سوچیں کہ قبضہ گیر غلام قوموں کو نقل مکانی پر مجبور کیوں کرتا ہے اور اس کی وجوہات کیا ہیں، تو جب غلام معاشرے میں شعور آنے لگے، ظالم و جابر قبضہ گیر اپنا قبضہ جمائے رکھنے کے لیے غلام قوموں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کرتا ہے، جس سے غلام معاشرے کا سیاسی شعور کمزور کیا جا سکے، قبضہ گیر اس جگہ پر اپنا سیاسی کنٹرول مضبوط کر سکے، مقامی لوگوں کی مزاحمت کو کم کیا جا سکے اور ان کے وسائل و معدنیات پر قبضہ کیا جا سکے۔

اسی طرح ان کے سماجی ڈھانچے کو کمزور کرکے ان کی شناخت، زبان، تاریخ و ثقافت کو تباہ کیا جا سکے، انہیں اپنی زمین سے دور رکھا جا سکے اور اپنی حاکمیت طویل عرصے تک قائم رکھی جا سکے۔

اسی طرح اگر تاریخ کے پنوں میں دیکھیں تو ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں جہاں قبضہ گیر نے اپنے ظلم و جبر سے اپنا قبضہ قائم رکھنے کے لیے لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا ہے۔

بلوچستان کی طرف نظر ڈال کر دیکھیں تو اسی طرح 1948 سے لے کر آج تک پاکستان نے بلوچستان پر قبضہ قائم رکھنے کے لیے ظلم اور جبر کا سہارا لیا ہے اور اپنے ظلم و بربریت سے بلوچوں کو ان کے آبائی علاقوں سے جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے۔

اگر ہم تاریخ کے پنوں کو اٹھا کر دیکھیں تو ہمیں ایک لمبی فہرست ملتی ہے۔ جیسے کہ 1973 میں جب بھٹو کی حکومت ہوتی ہے تو اس دوران بلوچستان میں نیپ اور جے یو آئی کی صوبائی حکومت برطرف کی جاتی ہے، جس کے بعد بلوچستان میں بڑا فوجی آپریشن شروع کیا جاتا ہے اور عام آبادی بھی اس سے متاثر ہوتی ہے۔ اس وقت وہاں کے لوگ سیاسی اور ثقافتی حوالے سے شعوری اعتبار سے بیدار ہو رہے تھے۔ اس آپریشن کے ذریعے لوگوں کے سیاسی اور سماجی نظام کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے عام آبادی پر تشدد کیا جاتا ہے، جس میں بہت سے مقامی لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

اسی طرح دسمبر 2005 سے شروع ہونے والے اس دور کے دوران کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں بھی فوجی آپریشن کیے گئے۔ کم از کم 84 ہزار لوگ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے، جن میں تقریباً 26 ہزار خواتین اور 33 ہزار بچے بھی شامل تھے۔

اس قبضہ گیر، ظالم اور جابر کا ظلم یہاں ختم نہیں ہوتا۔ اسی طرح جنوری 2005 میں سوئی گیس فیلڈ پر قبضہ کرنے کے لیے وہاں 400 ایکڑ پر مشتمل ایک نئی فوجی چھاؤنی قائم کی گئی اور وہاں کے مقامی لوگوں پر سرچ آپریشن کے نام پر تشدد کیا گیا۔ ان کے لیے وہ جگہ تنگ کی گئی اور جب لوگوں نے اس کے خلاف مزاحمت کی تو وہاں فوجی آپریشن شروع کر دیا گیا۔ وہاں کے لوگوں کو معاشی حوالے سے تنگ کیا گیا اور انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، جبکہ بلوچستان اور بلوچ کے وسائل پر قبضہ کر لیا گیا۔

اسی طرح 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے علاقے چاغی میں پانچ جوہری تجربات کیے اور 30 مئی کو ایک اور جوہری تجربہ کیا۔ اس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا اور بہت سے قریبی آبادی والے علاقے اس نیوکلیئر ٹیسٹنگ سے بہت متاثر ہوئے۔ لوگوں میں کینسر اور دوسری وبائیں پھیلنا شروع ہوئیں۔ اس کے بعد وہاں فوجی نظام کے ذریعے پاکستان اپنا قبضہ جما لیتا ہے، وہاں کے وسائل پر قبضہ کر لیتا ہے اور اپنا سیاسی کنٹرول مضبوط کر لیتا ہے۔

اگر اسی طرح اس ظالم اور جابر کے ظلم پر نظر ڈالیں تو ہمیں گوادر مول بند کا واقعہ نظر آتا ہے۔ 2005 میں گوادر پورٹ ڈویلپمنٹ کے لیے مول بند کے لوگوں کو ڈویلپمنٹ کے نام پر نقل مکانی پر مجبور کیا جاتا ہے۔ اس کے ذریعے وہاں کے مقامی لوگوں کے ذرائعٔ معاش کو بھی تنگ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ مجبوراً نقل مکانی کر لیتے ہیں، اور پاکستان گوادر پورٹ پر اپنا فوجی کنٹرول اور وہاں کے لوگوں کے سیاسی نظام کو تباہ کرکے اپنا سیاسی نظام قائم کرتا ہے۔

اسی طرح 8 مارچ 2017 کو مشکے، ملیر، مچی اور 23 مارچ کو اوران، جبکہ 22 مئی 2017 کو کیچ، دشت کے علاقے میں بڑے فوجی آپریشن کیے گئے۔ وہاں کے لوگوں کے گھروں کو بلڈوز کیا گیا اور بہت سے گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ وہاں کے لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی زبان، ثقافت اور معاشی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح نومبر 2024 میں بلوچستان کے مند، کیچ میں فوجی کیمپ بنانے کے لیے وہاں کے لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا، ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ ان کے سیاسی و معاشی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اسی طرح اس ظلم و جبر کو جاری رکھتے ہوئے، اس نے 2025 میں بلوچستان کے علاقے زہری میں ایک بڑا فوجی آپریشن کیا، جہاں لوگوں کے گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا، ان کے مال مویشی اور فصلوں کو تباہ کیا گیا اور ان کے کاروباری نظام کو تباہ کیا گیا۔ وہاں کے آبائی باشندوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں آبائی لوگ وہاں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کے سیاسی اور معاشی نظام کو تباہ کیا گیا اور قبضہ گیر نے اپنی طاقت کے زور پر وہاں اپنا سیاسی و فوجی کنٹرول مضبوط کیا۔

اسی طرح 2026 میں بلوچستان کے علاقے شور، پارود کو خالی کرنے کا نوٹس جاری کیا گیا اور وہاں کے لوگوں کو تشدد اور جبر کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہ اپنے آبائی علاقے سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

اسی طرح اپنے ظلم و بربریت کو آگے بڑھاتے ہوئے، ستمبر 2026ء میں مستونگ،کھڈ کوچہ کے لوگوں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہیں مالی طور پر تنگ کیا جاتا ہے، ان کی فصلوں اور درختوں کو تباہ کیا جاتا ہے، لوگوں پر تشدد کیا جاتا ہے اور وہاں اپنے سیاسی و فوجی نظام کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اسی طرح ظالم اور جابر نے اپنے ظلم کو برقرار رکھتے ہوئے اکتوبر 2026 میں گوادر میں شادی کور کے قریب واقع سردشت، ایک قدیم بلوچ آبادی والا علاقہ ہے، جہاں تقریباً تین ہزار افراد نسلوں سے آباد ہیں۔ آج ان کے سیاسی اور ثقافتی نظام کو کمزور کرنے اور تباہ کرنے کے لیے ان لوگوں کو ان کے آبائی علاقے سے جبری نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

پاکستان ہمیشہ سے بلوچستان اور اس کے وسائل پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے مختلف پالیسیوں کے ذریعے جبر و بربریت کا سلسلہ جاری رکھتا آیا ہے اور ہر ممکن طریقے سے اپنے قبضے کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی لوگوں کو تعلیم کے ذریعے غلام بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی بلوچستان میں معاشی بحران کو بڑھایا جاتا ہے، اور کبھی انفراسٹرکچر اور کاروباری نظام کے ذریعے بلوچوں کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کی کوشش کی جاتی.

ان تمام پالیسیوں کا مقصد بلوچستان پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا اور اسے مزید مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ بلوچستان، گوادر اور جہاں کہیں بھی وسائل و معدنیات موجود ہیں، وہاں ہمیشہ اپنی نظر جمائے رکھی جاتی ہے۔ جہاں سیاسی نظام میں بہتری آتی ہے اور لوگوں میں سیاسی شعور مضبوط ہونے لگتا ہے، وہاں قبضہ گیر اپنی مختلف پالیسیوں کے ذریعے اس سیاسی شعور کو کمزور کرنے اور اپنے سیاسی و فوجی کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

Share to