قابض پاکستانی ریاست بلوچ قوم کی کلچرل جینوسائڈ میں ملوث ہے۔
شولان بلوچ – مرکزی ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
بلوچ قوم دو مارچ بلوچ ثقافتی دن کو بلوچستان سمیت پوری دنیا میں احترام سے مناتی ہے۔ بلوچ ایک قدیم قوم ہے جو اپنی سرزمین پر صدیوں سے آباد ہے۔ صدیوں سے آباد اس قوم کی اپنی الگ قومی ثقافت ہے جس سے دنیا میں ایک قوی پہچان ہے۔ ثقافت میں شامل بلوچیت، بلوچوں کی زِندگی گزارنے کے قوانین و معاشرتی دستور کا نام ہے جو ایک پوری ضابطہ حیات ہے۔ اسی بلوچیت کی پیروی کرتے ہوئے بلوچوں نے اپنا سماجی ڈھانچہ قائم رکھا اور اپنے سماج کو تہذیب یافتہ بنایا۔ آج دنیا کے جس بھی کونے میں بسنے والے بلوچ فخر کے ساتھ خود کا بلوچ کہتے ہیں اور بلوچستان کو اپنی مادرِ وتن سمجھتے ہیں۔
ثقافت صرف رہن و سہن اور ظاہری چیزوں کا نام نہیں بلکہ یہ انسانوں کی رویوں اور نفسیات سے جڑی ایک عنصر ہے جو ایک معاشرے کو منفرد مقام دیتی ہے۔ بلوچوں کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری ثقافت میں ظالم کے خلاف مزاحمت، قوم و سرزمین سے محبت، مہمان نوازی، میارجلی، اپنوں کی مدد اور دیگر عوامل شامل ہیں جو بلوچ قوم صدیوں سے عمل کرتے ہوئے آیا ہے۔ حملء جئیند سے لے کر محراب خان، لمہ کریمہ سے شاری بلوچ تک، ہزاروں عظیم سپوتوں کی داستانیں موجود ہیں جنہوں نے مزاحمت کا عظیم راستہ اختیار کرکے اپنی قومی ثقافت کی پاسداری کی۔ انہی داستوں نے ہماری ثقافت کو مزید مضبوط بنائے رکھا ہے۔
بلوچ قوم ثقافتی فخر سے سرشار ایک زندہ قوم ہے۔ جس قوم کو اپنی ثقافت پر فخر و محبت ہو اس قوم کو مٹانا ناممکن ہے، اسی لیے بلوچستان پر جتنے بھی بیرونی یلغار آئے سب نے بلوچوں کی ثقافت کو مسخ کرنے کی کوشش کی مگر وہ آخر میں ناکام ہوئے۔ آج بلوچ قوم کو قابض پاکستانی ریاست سے کلچرل جینوسائڈ کا سامنا ہے، جہاں یہ جابر اور مصنوعی ریاست بلوچوں کی زبان، رسم و روایت، سماجی ڈھانچہ، نفسیات سمیت تمام پہلوؤں کو مسخ کرنے اور اپنی مصنوعی و جھوٹی ثقافت کو زبردستی مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تاریخ میں تمام قابض ریاستوں کی یہی پالیسی رہی ہے جسے آج قابض پاکستانی ریاست نے اختیار کیاہے۔ مگر ہم نے کبھی بھی اپنی قومی ثقافت کو زوال ہونے نہیں دیا ہے بلکہ ان تمام جابروں کے خلاف ایک مضبوط ڈھال بن کر ابھرے ہیں۔
دو مارچ بلوچ ثقافتی دن کے موقع پر ہم بلوچستان کے وسیع رقبہ پر بسنے والے بلوچ عوام پر فخر کرتے ہیں جنہوں نے اس کھٹن قبضہ گیریت کے دور میں بھی اپنی قومی ثقافت کو روزمرہ کی بنیاد پر سنبھالے رکھا ہے اور ان عظیم فرزندوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے بلوچ قومی ثقافت کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نزرانہ پیش کیا ہے۔ بلوچ قوم کے نوجوان ان تمام کرداروں کو مشعلِ راہ کے طور پر دیکھیں اور اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے جدوجہد کریں کیونکہ ثقافت کا زندہ رہنا ہے بقا کا ضامن ہے۔