اپنے ہی سرزمین پر مہاجرین کی زندگی گزارنے والے بلوچ سیاسی جہدکاروں کو نشانہ بناکر شہید کرنا قابض کی جنگی جرائمہیں۔
شولان بلوچ، ترجمان– بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
بلوچستان میں سیاسی آوازوں کو دبانے اور انہیں خاموش کرنے کے لیے قابض پاکستانی ریاست بلوچ جہدکاروں اوران کے خاندانوں کو نشانہ بناتی آرہی ہے۔ کئی سیاسی جہدکاروں کو جبراً گمشدہ کرکے ان کو نامعلوم ٹارچر سیلوں میں رکھاگیا ہے جبکہ کئی رہنماؤں اور کارکنوں کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی گئی ہیں۔ کئی سیاسی کارکنان کو نشانہ بنا کرانہیں شہید کیا گیا ہے، بلوچستان کو سیاسی آواز سے محروم رکھنے میں حقیقی سیاسی خلاء کو ختم کیا گیا ہے۔ ان مظالماور جبر کے سائے تلے کئی سیاسی کارکنان مہاجرین کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے بلوچ سیاسی کارکنانبیرون ملک میں مہاجر بنے ہوئے ہیں جبکہ کئی سیاسی کارکنان اور خاندانیں اپنے ہی سرزمین ایران مقبوضہ بلوچستان میںمہاجرین کی زندگی جی رہے ہیں۔ ان میں کئی اپنے رشتہ داروں کے ہاں پناہ لیے ہوئے ہیں جو بلوچ قوم کی ایک قدیمروایت ہے۔ قابض پاکستانی ریاست اپنی جارحانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہوکر بلوچ سیاسی کارکنان کو ہمسایہ بلوچ علاقوںمیں بھی نشانہ بناتی آرہی ہے۔
عرصہ دراز سے بلوچ فرزند جو مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، کو نشانہ بنانے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں،حالیہ بلوچ نیشنل مومنٹ کے مرکزی سیاسی کارکن ڈاکٹر عبدالرشید ارف نوکاپ کو نشانہ بناکر شہید کرنا قابض کی جارحانہاور ریاستی دہ شتگری کی کڑی ہے۔ ڈاکٹر عبدلرشید جو قابض کی مظالم سے تنگ ہوکر اپنے رشتہ داروں کے ہاںمہاجرین کی زندگی گزارہا تھا۔ ان کے خاندان کو اجتماعی سزا کا بشانہ بنا کر انہیں ڈرایا دھمکایا گیا تاکہ وہ بلوچ قومی آزادیکی تحریک میں سیاسی جدوجہد سے دستبردار رہے۔ مگر انہوں نے اپنی قومی زمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے مہاجرین کیزندگی کو ترجیح دی اور قومی تحریک کا حصہ رہے۔ وہاں پر ہی انہوں نے اپنے پیشے پر عمل کرتے ہوئے انسانیت کیخدمت کی۔ انہوں نے دور دروز علاقوں جہاں صحت جیسے سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث لوگ مختلف بیماریوںمیں مبتلا تھے، وہ ان کی خدمت کے لیے کلینک کھول کر لوگوں کی علاج کررہے تھے۔ وہ سیاسی جہدکار ہونے کے ساتھطبعی شعبے میں خدمتِ انسان کے ایک مخلص کارکن تھے۔
اس سے پہلے بھی کئی بلوچ سیاسی کارکنان کو ہمسایہ بلوچ علاقوں میں نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ شم سر کا واقعہ ہمارےسامنے ہے جہاں قابض پاکستانی ریاست نے جنگی طیاروں سے ایک پوری بلوچ خاندان کو نشانہ بنا کر شہید کیا۔ جبکہدوسری جانب کئی خاندانوں کو اجتماعی سزا دے کر ان کے رشتہ داروں کو شہید کرنے اور ان کے گھروں کو جلانے کیبھی کئی جارحانہ عمل پیش آئے ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی ماحول کو ختم کرنے اور سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوششمیں قابض کئی سیاسی کارکنان کی شہادت سمیت ہمسایہ بلوچ علاقوں تک بلوچ نسل کشی میں ملوث ہے۔ اپنے ہیسرزمین پر مہاجرین کی زندگی گزارنے والے بلوچ سیاسی جہدکاروں کو نشانہ بناکر شہید کرنا قابض پاکستانی ریاست کیجنگی جرائم ہیں۔
ہم ڈاکٹر عبدالرشید بلوچ سمیت تمام ان بلوچ فرنزدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے قابض کی تمام ترمظالم کے باوجود مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوکر بلوچ قومی تحریک آزادی سے جڑے رہے۔ بلوچستان پرجبری قبضے کے بعد بلوچ قوم اپنے ہی سرزمین پر مہاجرین کی زندگی گزاررہی ہے، عالمی اداروں پر یہ زمہ داری عائد ہوتیہے کہ وہ بلوچ مہاجرین کو تسلیم کرکے ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے اور قابض پاکستانی ریاست کو جوابدہ کرکےبلوچ نسل کشی کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات لئے جائیں۔