قومی سیاست کو آزاد اور نظریاتی رخ دینے والے عظیم انقلابی رہنما شہید فدا احمد بلوچ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
شولان بلوچ، ترجمان- بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
بی ایس او کو اپنے قیام سے لے کر آج تک ہمیشہ مفادپرست ٹولوں کی سازشوں اور یلغار کا سامنا رہا ہے۔ جب بلوچ نوجوانوں نے بلوچ قومی سیاست میں عملی طورپر حصہ لینے کے لئے بی ایس او کا قیام عمل میں لایا تو اس قومی تنظیم کو ہمیشہ مفاد پرست ٹولوں کی جانب سے تقسیم کرنے کی سازشوں کا سامنا رہا، کئی مفاد پرست اور سودا باز ٹولوں نے بی ایس او کو یرغمال بنانے کی کوششیں کی جس سے بی ایس او کے کئی دھڑے بن گئے اور اس کا سمت اور نظریہ ابہام کا شکار رہا۔ مگر ان تمام چپقلشوں کے اندر ایسے بھی بہادر اور انقلابی رہنما تھے جنہوں نے بی ایس او کو قومی اور آزاد بنانے کے خواب دیکھے، انہی انقلابی اور دلیر رہنماؤں میں ایک شہید فدا احمد بلوچ تھے۔ انہوں نے بلوچ قومی سیاست کو مفاد پرستوں کی چنگلوں سے نکالنے اور ایک آزاد و خودمختارسمت دینے کے لیے جدوجہد کی، اسی جدوجہد اور نظریاتی دفاع میں انہوں نے جامِ شہادت نوش کی جو بلوچ قومی سیاست میں ہمیشہ امر ہوگئے۔
فدا احمد بلوچ کا خواب جو پارلیمانی گروہی سیاست اور مفاد پرست ٹولوں سے پاک ایک آزاد قومی سیاست اور پارٹی تھا، انہوں نے طالبعلمی کے دور میں بلوچ طلباء سیاست کو بلوچستان بھر میں فعال کرنے اور اسے بلوچ قوم کی حقیقی آواز بننے کے لئے تگ و دو کی جو ان کی شعوری پختگی اور دور اندیشی کا ثبوت ہے۔ چوکہ اس دور میں بلوچ قومی سیاست مختلف ٹولہ بازی اور مفاد پرستی کے چنگل میں قید تھا مگر انہوں نے اسے ان عناصر سے بچانے اور بلوچستان میں حقیقی و قومی سیاست کو مضبوط کرنے کے لیے بلوچ سیاسی کارکنان کو متحد کرکے ایک منظم طاقت کے لئے جدوجہد کی۔ وہ مفادپرستی اور پارلیمانی سیاست کے نہ صرف سخت خلاف تھے بلکہ انہوں نے ان قوم دشمن عناصر کی نشان دہی کرکے بلوچ سیاست کو ان کی چنگلوں سے آزاد کروانے کے لیے جدوجہد کی۔
وہ بلوچستان بھر میں دورے کرکے بلوچ عوام کو متحد کرنے اور انہیں قومی سیاست میں حصہ لینے کے لئے جلسے، سیمنار سمیت دیگر سیاسی سرگرمیاں کرتھے تھے۔ ان کا انقلابی فکر جو نوجوانوں کی ایک قومی پارٹی تشکیل دینا تھا، اسی نظریہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انہوں نے بی این وائی ایم کا قیام عمل میں لایا۔ ان کی دلیری اور دور اندیشی کچھ مفاد پرست قوم دشمن عناصر کی آنکھوں میں کانٹوں کے مانند تھے جس کے پاداش میں انہیں دو مئی 1988 ء کو بلوچستان کے شہر تربت میں شہید کیا۔ جب انہیں شہید کیا گیا تو ان کے ہاتھوں میں کتابیں تھی اور وہ قومی خواب کو تعبیر کرنے کے سفر میں بلوچ قومی سیاست میں ایک مشعل کی طرح ابھر کر سامنے آیا جو ہمیشہ بلوچ نوجوانوں کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ آج وہی قاتل ان کا نام استعمال کرکے بلوچ قوم کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، جبکہ دوسری جانب یہ عناصر پاکستانی پارلیمنٹ میں بیٹھ کے بلوچ قوم کی نسل کشی اور بلوچستان کو مقبوضہ رکھنے میں قابض کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ مگر تاریخ کبھی مٹتی نہیں اور ناہی بلوچ قومی یاداشت کمزور ہے، انہی مفاد پرست ٹولوں نے اپنی ذاتی مفاد کی خاطر ایک عظیم قومی رہنما کو شہید کیا۔ مگر فدا کا خواب ٹوٹنے کے بجائے اسے بلوچ قومی جہدکاروں نے اپنایا اور اسے تعبیر کرنے کے لیے آج قومی کاروان اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں۔
ہم شہید فدا احمد بلوچ کی اٹھتیسویں شہادت کی برسی کے موقع پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور بلوچ سیاسی کارکنان کو تائید کرتے ہیں کہ ان کی سیاسی وراثت کو آگے بڑھانے میں ان کا مطالعہ کریں اور ان کی حقیقی نظریے کو سمجھ کر ان کی پیروئی کریں۔ ان کی خواب کو تعبیر کرنے کے لیے بلوچ سیاست کو منظم اور قومی سمت دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔