چئیرمین زاہد بلوچ اور جونئیر جوائنٹ سیکریٹری اسد بلوچ گزشتہ بارہ سالوں سے پاکستانی ریاست کی ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ہیں۔

چئیرمین زاہد بلوچ اور جونئیر جوائنٹ سیکریٹری اسد بلوچ گزشتہ بارہ سالوں سے پاکستانی ریاست کی ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار ہیں۔
شولان بلوچ- ترجمان، بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد

بی ایس او آزاد کے سابقہ چئیرمین زاہد بلوچ اور مرکزی جونئیر جوائنٹ سیکریٹری کو 18 مارچ 2014 میں کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاون سے غیرقانونی طریقہ سے اٹھا کر ان کو جبری گمشدگی کا شکار گیا گیا، جس کے چشم دید گواہ تنظیم کے سابقہ چئیرپرسن شہید بانک کریمہ تھے جن کو پاکستانی ریاست نے ٹورنٹو، کینڈہ میں شہید کیا۔ گزشتہ بارہ برسوں سے ان کو نہ منظرِ عام پر لایا گیا اور ناہی ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی جو ریاست پاکستان کے جانب سے پرامن بلوچ سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی اور بلوچستان میں پرامن سیاسی ماحول کو ختم کرنے کی جابر پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

ان کے جبری گمشدگی کے خلاف تنظیم نے اسی سال کراچی پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتالی مہم کا آغاز کیا جس کی قیادت بانک کریمہ کررہے تھے اور لطیف جوہر بلوچ 46 دن بھوک ہڑتال پر بیٹھے رہے۔ اس وقت کے حکومتی نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان کے رہائی کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے بعد تنظیم نے بھوک ہڑتالی کیمپ ختم کیا۔ مگر بارہ سال گزرنے کے بعد بھی ان کو نہ منظرِعام پر لایا گیا اور ناہی ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی۔ اس کے بعد بھی تنظیم اور ان کے خاندان کی جانب سے مسلسل احتجاجی مہم چلائے گئے مگر پاکستانی ریاست اس جرم پر نہ صرف خاموش ہے بلکہ اجتماعی سزا کے پالیسی کو اپنا کر گزشتہ سال زاہد بلوچ کے بھائی شاہ جان بلوچ کو ان کے آبائی علاقے نال، خضدار میں بے دردی سے شہید کیا گیا۔

چئیرمین زاہد بلوچ اور اسد بلوچ تنظیم کے مرکزی رہنما تھے اور بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد میں سرگرم رہے ہیں۔ چئیرمین زاہد بلوچ جن کا بلوچ نوجوانوں کے اندر سیاسی شعور لانے میں اہم کردار ہے، وہ بلوچستان میں قابض پاکستانی ریاست کی ظلم و جبر کے خلاف ایک اہم آواز اور شخصیت ہیں جو بلوچ نوجوانوں سمیت عوام میں مقبول ہیں۔ انہوں نے بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم سے بلوچ نوجوانوں کو سیاسی تعلیم دی اور وہ بلوچستان میں پاکستانی ریاست کی جانب سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قومی اور عالمی سطح پر وکالت کررہے تھے۔ زاہد بلوچ بلوچستان میں رہ کر اپنی عوام کے رہنمائی کررہے تھے، 2013 میں بلوچستان کے علاقے آواران میں پیش آنے والی بھیانک زلزلہ میں وہ عوام کے اندر رہ کر ان کی مدد کرنے اور سماجی خدمات دینے میں مقبول شخصیت رہے ہیں۔ ان کی عوامی خدمات اور پرامن سیاسی سرگرمیوں سے پورا بلوچستان واقف ہے۔

تنظیم کے سربراہ چئیرمین زاہد بلوچ اور اسد بلوچ کو ان کی پرامن سیاسی جدوجہد اور عوام میں مقبولیت کے پاداش میں پاکستانی ریاست نے جبری گمشدگی کا شکار کیا ہے تاکہ وہ بی ایس او آزاد کو کمزور کرے اور بلوچستان میں جائز اور منظم عوامی نمائندگی کو کچل کر بلوچستان میں اپنی ناجائز قبضے کو برقرار رکھ سکے۔ مگر تنظیم چئیرمین زاہد بلوچ کے فلسفے پر آج نہ صرف قائم ہے بلکہ مزید منظم اور مقبول طاقت بن کر بلوچ عوام کی رہنمائی کررہا ہے۔ بلوچ قومی جدوجہد میں بی ایس او آزاد روح کی مانند مضبوط فکری بنیادوں پر قائم بلوچستان میں پرامن سیاسی جدوجہد میں سرگرم ہے جو ناجائز قبضے اور بلوچ ریاست کی دوبارہ بحالی تک جاری رہے گا۔

Share to