تخلیق اور تحریک-بچکند بلوچ

تخلیق اور تحریک

 بچکند بلوچ

جب تخلیق پر قیاس آرائی ہوتی ہے تو اسے صرف فنون لطیفہ اور ادب سے جڑا جاتا ہے۔ لیکن تخلیق کوئی شعبہ جاتی موضوع نہیں ہے بلکہ زندگی کے ہر پہلو سے لے کر سائنس و فلسفہ، سیاسیات و سماجیات کے بھی اہم موضوع کے طور پر پرکھا جاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر عہدِ انقلاب و تحریک میں اس کی ضرورت سب سے زیادہ ہے، کیونکہ انقلاب کا ستون یا روح تخلیق پر ہی قائم ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ آخر تخلیق ہے کیا؟ فلسفی اور دانشور اس کی تعریف کس طرح کرتے ہیں؟

ان کثیر المکاتب میں اگر تخلیق کے جوہر کو پرکھیں تو عظیم ہستی وہ ہے جس نے اپنے سے بڑھ کر کوئی چیز تخلیق کی ہے۔ اس نکتہ نظر کے برعکس جب ہم بنی نوع کی تخلیق کو دیکھتے ہیں تو انسان صرف وہی پیدا کرتا ہے جو اس کے اپنے قد، اس کی اپنی ذہنی حدود اور اس کے اپنے زمانے کے برابر ہو، تو اس کی تخلیق محض تکرار ہے۔ اصل تخلیق وہاں شروع ہوتی ہے جہاں تخلیق کار اپنی تخلیق کے سامنے خود ایک پرانی شکل بن جاتا ہے۔ تخلیق کا اعلیٰ ترین درجہ وہ ہے جہاں خالق اپنی تخلیق سے پیچھے رہ جائے۔ یعنی، میں نے کچھ ایسا پیدا کیا جو مجھ سے آگے چلا گیا۔ اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں تخلیق ایک عام تصورِ ہستی سے بڑھ جاتی ہے۔

تخلیق کسی غیبی طاقت یا موروثی عمل کی پیداوار نہیں ہے اور نہ ہی وہ خود بخود موجود میں آئی ہے بلکہ اسے خود جنم دینا ہوگا۔ اسی لیے تخلیق ایسی کرو کہ اگر وہ تمہیں ختم بھی کر دے تو کوئی ملال نہ ہو۔ ایسی تخلیق جو تمہارے وجود کی ضرورت کو ختم کر دے کیونکہ تم نے اپنے بعد اپنے وجود سے زیادہ طاقتور امکان پیدا کر دیا ہے۔ تخلیق کا مقصد اپنے آپ کو محفوظ کرنا نہیں بلکہ تخلیق کا مقصد اپنے آپ کو تجاوز کرنا ہے۔ تخلیق جب اپنے آپ کو وسیع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی تو وہ تخلیق کے زمرے میں نہیں آتی بلکہ حقیقی تخلیق وہی ہے جو نہ صرف تجاوز کرے بلکہ بنی نوع سے لے کر ہر شے پر اس کے اثرات یکساں طور پر پڑیں۔

جو چیز اپنے خالق کو اپنے اندر محفوظ رکھ کر بھی اس سے آگے نکل جائے، وہی زندہ رہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تخلیق دراصل بقا کی ایک بلند ترین صورت ہے۔ آدمی مر جاتا ہے، مگر اس کی تخلیق اس سے آگے چلتی ہے۔ ایک شاعر مر جاتا ہے، شعر زندہ رہتا ہے۔ ایک فلسفی مر جاتا ہے، ایک سوال زندہ رہتا ہے۔ ایک انقلابی مر جاتا ہے، ایک امکان زندہ رہتا ہے۔ ایک تہذیب مر جاتی ہے، مگر اس کی تخلیق کردہ تصورات دوسری تہذیبوں کے ذہنوں میں نئے تاریخی امکانات پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے تخلیق محض ‘کچھ بنانا’ نہیں، بلکہ تخلیق اپنے سے آگے ایک دنیا پیدا کرنا ہے۔

یہاں سے ہیگل اور نطشے ایک دوسرے کے آمنے سامنے آتے ہیں۔ دونوں کے درمیان اختلاف ہر بنیادی مقام پر موجود ہے، مگر ایک حیرت انگیز مماثلت بھی ہے۔ دونوں کے نزدیک انسان کو اس شکل میں قبول نہیں کیا جا سکتا جس میں وہ محض موجود ہے۔ انسان ایک بننے والا وجود ہے۔

ہیگل کے ہاں انسان اپنے شعور، تاریخ، سماجی تعلقات اور آزادی کے سفر میں خود کو پیدا کرتا ہے۔ دوسری جانب نطشے کے ہاں انسان اپنے آپ کو توڑ کر، اپنی اقدار پر سوال اٹھا کر، اپنے اندر موجود قوتوں کو نئی شکل دے کر اور خود سے آگے بڑھ کر خود کو پیدا کرتا ہے۔ ہیگل کے نزدیک انسان تاریخ میں بنتا ہے۔ مگر، نطشے کا نکتہ نظر اس کے برعکس ہے، وہ سمجھتا ہے کہ انسان اپنے آپ کو تخلیق کرتا ہے۔ ہیگل کے لیے تخلیق کا افق روح (Geist) ہے اور نطشے کے ہاں تخلیق کا افق اصل میں فوق البشر، نئی اقدار اور self-overcoming ہے۔

یاد رہے عظمت اس میں نہیں کہ انسان نے اپنے آپ کو کتنا مکمل کیا۔ بلکہ عظمت اس میں ہے کہ اس نے اپنے سے آگے کتنی دنیا پیدا کی۔ نطشے کی پوری فکر میں ایک بنیادی تصور بار بار سامنے آتا ہے کہ انسان کو ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ انسان کو اپنے موجودہ وجود سے آگے نکلنا چاہیے۔ بقولِ زردشت، ”میں وہ کہتا ہوں کہ انسان کو آخری منزل نہیں سمجھنا چاہیے۔“ مشہور ابتدائی حصے میں انسان کو ایک پل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، ایسی ہستی جو حیوان اور فوق البشر کے درمیان واقع ہے۔ یہاں فوق البشر کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ اسے محض ”فوق البشر“، ”طاقتور انسان“ یا ”ایک غیر معمولی سپر ہیرو“ سمجھ لینا نطشے کے تصور کو انتہائی سطحی بنا دیتا ہے۔ فوق البشر بنیادی طور پر اس بنی نوع کا نام ہے جو اپنے موجودہ اخلاقی، نفسیاتی اور ثقافتی تعینات سے آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔ یہ بنی نوع دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے سے پہلے اپنے اوپر غلبہ حاصل کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زردشت کی تخلیق کا بنیادی تصور طاقت کے ساتھ ساتھ self-overcoming ہے۔ نطشے کے لیے سب سے بڑا دشمن دوسرا انسان نہیں، بلکہ سب سے بڑا دشمن وہ ”خودی“ ہے جو اپنے موجودہ مقام پر مطمئن ہو چکی ہے۔ وہ انسان جو کہتا ہے کہ ”میں ایسا ہی ہوں۔“، نطشے کے نزدیک ابھی مکمل انسان نہیں ہوا۔ کیونکہ ”میں ایسا ہی ہوں“ اکثر اپنی موجودہ حالت کو آخری حقیقت سمجھ لینے کا نام ہے۔ اس کے مقابلے میں تخلیقی انسان کہتا ہے، میں جو ہوں، وہ بھی عارضی ہوں۔ یہی خود سے تجاوز ہے۔

روایتی انسان اپنی زندگی کا جواز اپنے سے باہر تلاش کرتا ہے۔ خدا میں، مذہب میں، روایت میں، ریاست میں، اخلاقی اصولوں میں یا کسی آخرت میں، مگر نطشے اس خود ساختہ دفاعیت کو توڑنا چاہتا ہے۔ اس لیے ”خدا مر گیا“ کا اعلان محض مذہب کے خلاف ایک نعرہ نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک زیادہ گہرا تہذیبی بحران ہے۔ اگر پرانے اعلیٰ اقدار کا آسمانی منبع ختم ہو جائے تو اب بنی نوع انسان کیا کرے گا؟ جواب ہے، تخلیق کرے۔ یعنی پرانی اقدار کے خاتمے کے بعد خلا میں گرنا نہیں، بلکہ نئی اقدار پیدا کرنا۔ یہی تخلیق ہے اور یہی نطشے کی تحریک ہے۔ جو مکمل ہو چکا ہے، وہ مزید بن نہیں سکتا، اور جو مزید بن نہیں سکتا، وہ اپنے اندر تحرک کھو دیتا ہے۔ یہاں نطشے کے ہاں زندگی اور تخلیق کا تعلق ظاہر ہوتا ہے۔ زندگی وہ ہے جو بڑھتی ہے، بدلتی ہے، خود کو نئے قالب میں ڈھالتی ہے اور اپنے سابقہ قالب کو توڑتی ہے۔ اسی لیے نطشے کے ہاں اعلیٰ انسان کوئی ”مکمل انسان“ نہیں بلکہ اپنے آپ کو مسلسل عبور کرنے والا انسان ہے۔

نطشے کے لیے تخلیق محض فن کا مسئلہ نہیں، یہ اخلاقیات کا مسئلہ بھی ہے، یہ سیاست کا بھی مسئلہ ہے اور یہ انسان کے مستقبل کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر انسان اپنی اقدار خود پیدا نہیں کرتا تو وہ کسی اور کے بنائے ہوئے اخلاقی سانچے میں زندگی گزار رہا ہے۔ تب انسان زندہ تو رہے گا، مگر تخلیق کار نہیں۔ اب یہیں سے نطشے کا سب سے اعلیٰ خیال سامنے آتا ہے۔ جب انسان تخلیق نہیں کر سکتا تو وہ مذمت کرتا ہے۔ نطشے کے ہاں ressentiment ایک انتہائی اہم تصور ہے۔ وہ انسان جو اپنی طاقت کو تخلیقی شکل نہیں دے سکتا، اپنی محرومی کو دوسروں کی مذمت میں بدل دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے، ”جو میرے پاس نہیں، وہ برا ہے۔ جو طاقتور ہے، وہ برا ہے۔ جو کامیاب ہے، وہ برا ہے۔ جو مجھ سے مختلف ہے، وہ برا ہے۔“

اگر نطشے کے ہاں تخلیق کا بنیادی مطلب اپنے موجودہ وجود سے آگے نکلنا ہے، تو ایک تحریک کے لیے بھی اس کا مطلب یہی ہونا چاہیے کہ وہ اپنی موجودہ شکل کو اپنی آخری شکل نہ سمجھے۔ اگر تحریک کل بھی بالکل وہی ہو جو آج ہے، تو پھر اس کے اندر وہ تخلیقی قوت کہاں ہے جو اسے اپنے موجودہ وجود سے آگے لے جائے؟ اسی لیے تحریک میں تخلیق صرف ادب، فلسفے یا ثقافت پیدا کرنے کا نام نہیں بلکہ تخلیق کا مطلب سیاسی امکان پیدا کرنا بھی ہے، تنظیمی شکل پیدا کرنا بھی ہے، نئی حکمت عملی پیدا کرنا بھی ہے اور سب سے بڑھ کر مستقبل کی ایسی صورت کا تصور پیدا کرنا ہے جو موجودہ تحریک سے زیادہ ترقی یافتہ ہو۔

اس تناظر میں پروفیسر صباء دشتیاری کی تخلیق کو سمجھنا ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ جب بلوچ تحریک کی ریاستی تشکیلِ نو پر بات ہوتی ہے تو یہاں پروفیسر صباء دشتیاری کا نقطہ نظر اہم بن جاتا ہے۔ ان کا بنیادی فکری نکتہ یہ تھا کہ بلوچ تحریک کو اپنی موجودہ شکل پر منجمد نہیں ہونا چاہیے۔ اگر تحریک صرف مزاحمت کی موجودہ صورت کو دہراتی رہے تو وہ اپنے تاریخی امکانات کی آخری حد تک نہیں پہنچ سکتی۔ اسی لیے انہوں نے تحریک کو ایک ایسی عبوری سیاسی ساخت کے طور پر دیکھنے کی کوشش کی جس میں تحریک خود مستقبل کی ریاستی صلاحیتوں کی مشق اور تشکیل کا میدان بنے۔ یعنی ان کے نزدیک تحریک کو صرف موجودہ دشمنِ پاکستان کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے اس دشمن کے متبادل کی صلاحیت بھی اپنے اندر پیدا کرنی چاہیے۔ ایک تحریک جو صرف دشمن کو شکست دینے کا سوچتی ہے، اس کے پاس فتح کے بعد کا سوال ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ لیکن ایک تحریک جو دورانِ جدوجہد ہی اپنے مستقبل کے سیاسی اداروں، نظم، ذمہ داری، اجتماعی فیصلوں اور حکمرانی کے اصولوں پر سوچنا شروع کر دیتی ہے، تو وہ فتح کو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک تاریخی عمل بناتی ہے۔

یہی دشتیاری کے ”عبوری ریاست“ کے تصور کی تخلیقی اہمیت ہے۔ اور یہاں نطشے کا self-overcoming ایک فرد سے نکل کر اجتماعی سطح پر آتا ہے۔ جس طرح نطشے کے ہاں انسان کو اپنی موجودہ شکل سے آگے نکلنا ہے، اسی طرح دشتیاری کے تصور میں تحریک کو بھی اپنی موجودہ شکل سے آگے نکلنا ہے۔ آج کی تحریک کو کل کی ریاستی صلاحیت پیدا کرنی ہے، یعنی تحریک کو اپنے اندر اس مستقبل کی کچھ خصوصیات پیدا کرنا شروع کرنی ہوں گی جس کے لیے وہ جدوجہد کر رہی ہے۔

اسی منطق کو گوریلا جنگ کے سوال پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ دشتیاری کے ہاں یہ تصور سامنے آتا ہے کہ بلوچ مزاحمت اگر ایک مخصوص مرحلے پر گوریلا جنگ تک محدود رہتی ہے تو اسے اپنی مستقبل کی تاریخی شکل تلاش کرنی ہوگی۔ ”بلوچ داں ہما وھدءَ آجو نہ بیت، وھدے آ وتی کوہءِ جنگءَ میدان ءَ میار اِیت“ (بلوچ اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتی، جب تک وہ پہاڑوں کی جنگ کو میدان میں منتقل نہ کرے)؛ یہاں پہاڑ سے میدان کی طرف آنا محض جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ جنگی اور سیاسی ارتقا کی علامت ہے۔ یعنی ایک مرحلہ دوسرے مرحلے کو جنم دے اور تحریک اپنی سابقہ عسکری شکل کو اپنی آخری شکل نہ سمجھے۔یہاں اس کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اگر بلوچ تحریک گوریلا جنگ کے مرحلے سے نکل کر ایک ریگولر قومی فوج کی تشکیل کی جانب پیش قدمی نہیں کرتی تو وہ اپنی آزادی کی منزل حاصل نہیں کر سکتی۔ یعنی دشتیاری کا بنیادی تصور یہ ہے کہ بلوچ مزاحمت کو گوریلا جنگ کی موجودہ صورت سے آگے بڑھا کر ایک منظم قومی فوج کی شکل اختیار کرنی ہوگی اور اسی ارتقائی مرحلے کے ذریعے بلوچ اپنی آزادی کی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک اور اس سے بھی زیادہ گہرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تحریک کو اپنے آپ سے آگے نکلنا ہے تو اس کے لیے انسان خود کو کس طرح تبدیل کرے؟ اس سوال کو اگر بلوچ تحریکی پس منظر میں دیکھا جائے تو اس کا جواب جنرل اسلم بلوچ کی تخلیق کردہ مکتب ہے جس نے بلوچ تحریک کو تخلیقی روح پونکی۔ ایک ایسی قربانی کے فلسفے کو جنم دیا جو آج بلوچ تحریک میں متحرک حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس تخلیق نے بلوچ سماج کے نہ صرف قومی جذبے کو مربوط بنایا بلکہ آج اس سماج کا ہر ایک شخص اس پرسودہ نظام کو نیست و نابود کر رہا ہے جو اسے غلامی کے ملبے تلے دبانا چاہتا ہے۔ اس کی قربانی کا فلسفہ صرف فنا کرنے پر مبنی ایک عمل نہیں بلکہ اپنے وجود کو تجاوز کر کے وسیع معنی میں پھیلنا ہے تاکہ بنی نوع انسان اس پرسودہ اور غیر تخلیقی نظام سے آگے نکل سکے۔

اسی لیے اسلم بلوچ کے ہاں قربانی اور فناء کا تصور اسی وسیع سوال کے اندر سمجھا جا سکتا ہے۔ یہاں فناء محض موت کا نام نہیں بلکہ اپنے فردی وجود کو ایک بڑے اجتماعی مقصد میں جذب کرنے کا تصور ہے۔ یہاں فرد اپنی ذات کو آخری منزل نہیں سمجھتا بلکہ وہ اپنے وجود کو ایک ایسے امکان کے لیے وقف کرتا ہے جو اس کی اپنی زندگی سے بڑا ہے۔ اس کے قربانی کے فلسفے کو صرف ایک شخص کی موت کے طور پر پڑھنا اس کے فلسفیانہ معنی کو محدود کر دیتا ہے۔ اگر قربانی کسی بڑے سیاسی امکان کے لیے ہو تو اس کا سوال یہ بنتا ہے کہ اس قربانی کے بعد کیا پیدا ہوا؟ کیا اس نے خوف کو توڑا؟ کیا اس نے سیاسی امکان کے تصور کو بدلا؟ کیا اس نے دوسروں کے اندر ایک نئی اخلاقی یا سیاسی وابستگی پیدا کی؟ کیا اس نے تحریک کے مستقبل کے بارے میں نئی سوچ پیدا کی؟ ان سوالوں کے جواب جاننے کے بعد قربانی یہاں محض فنا نہیں رہتی بلکہ تخلیق کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اگر اسی اسلمی فکر کو نطشے کے تصورِ فوق البشر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تخلیقی عمل صرف دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانا نہیں ہے بلکہ تحریک کے اندر بھی اس جامد سوچ و فکر کو تجاوز کرنا ہے جو کہیں دہائیوں سے بے ضبطگی کا شکار تھی، مگر اسلمی فلسفے نے بلوچ تحریک کو ایک ایسے تخلیقی مقام پر کھڑا کیا ہے جہاں سے ہر شخص اپنے وجود کو Self-overcoming کے تناظر میں دیکھ کر ازسر نو ایک ایسا جوہر تشکیل دے رہا ہے جو تاریخی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

Share to