سوراب میں عام آبادی پر دہشتگرد پاکستانی ریاست کی بمباری قابض کی ظالم چہرے کو واضح کرتی ہے۔
شولان بلوچ، ترجمان- بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
12 اگست2026 کی رات کو سوراب کے علاقے گوندان، گِدر میں چار پاکستانی بمبار جٹس نے عام آبادی پر حملہ کرکے چار غولے گِرائے جو مختلف گھروں پر گِر کر تمام علاقہ زمین بوس ہوا۔ اس دہشتگردانہ جارحیت میں بیس سے زیادہ عام بلوچ شہید ہوئے جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے شامل ہیں جبکہ درجنوں کے حساب سے لوگ زخمی ہوئے۔ کئی زخمیوں کو قریبی ہسپتال میں منتقل کردیا گیا جبکہ کئی لاشوں کو پاکستانی فوج نے اپنے تحویل میں لے کر خاندانوں سے دور رکھا گیا۔ شہید ہونے والے لوگوں میں بچے، عورتیں اور بوڑھے جو رات کی تاریکی میں سورہے تھے جابر پاکستانی جارحیت کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔
سوراب کے اس انسانیت سوز واقعے نے ایک بار پھر دہشتگرد پاکستانی ریاست کا مکروہ چہرا بے نقاب کردیا۔ قابض پاکستانی ریاست کئی دہائیوں سے بلوچستان میں اپنی فوجی آپریشن کے نام پر بلوچستان میں جارحیت کررہی ہے۔ دسمبر 2005 کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں بمباری، مارچ 2005 کو ڈیرہ بگٹی میں عام آبادی پر بمباری جہاں سو سے زیادہ عام بلوچ شہید ہوئے، دسمبر 2012 کو مشکے میں عام آبادی پر بمباری جبکہ جون 2015 کو مشکے پر فوجی آپریشن میں بمباری، بولان و گردنواح میں عام آبادی پر شِلنگ اور بمباری، جنوری 2024 جو پنجگور کے علاقے شم ءِ سر کے علاقے میں پاکستانی بمباری جہاں دس سے زیادہ عام بلوچ شہید ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل تھے، ستمبر 2025 کو زہری میں بمباری جہاں ایک درجن کے قریب لوگ جان کی بازی ہار گئے۔ ان کے علاوہ پاکستانی ریاست روزانہ کی بنیاد پر عام آبادی پر مارٹر غولے اور ڈرون طیاروں سے حملہ کرتی آرہی ہے۔ یہ تمام واقعات پاکستانی جارحیت کے واضح ثبوت ہیں۔
پاکستانی ریاست بلوچستان پر قابض ہوکر بلوچ قوم کی نسل کشی میں ملوث ہے جو کئی دہائیوں سے جاری ہے جہاں ہر خاندان، گھر،شہر اور گاؤں اس کے جارحیت کے نشانے پر ہیں۔ یہ جابر ریاست نہ بچوں پر رحم کرتی ہے اور نہ ہی عورتوں و بوڑھوں پر نرم دلی دکھاتی ہے بلکہ اس کے نظر میں انسانوں کی مثال جانوروں سے بھی بدتر ہے۔ عام آبادی پر بمباری، شِلنگ اور فوجی آپریشنوں سے عام لوگوں کو شہید کرنا اس جابر ریاست کا وطیرہ رہا ہے جہاں بلوچستان سے لے کر خیبرپختونخواہ تک اس دہشتگرد ریاست نے لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی زِندگیاں چھینی ہیں۔
سوراب میں بمباری اور عام بلوچوں کی شہادت کا واقعہ نہ صرف پاکستانی جارحیت پسندی اور انسانی حقوق کی پامالی ہے بلکہ یہ انسانیت کے خلاف ایک کھُلی جنگ ہے۔ دنیا کی پاکستانی جارحیت اور بلوچ نسل کشی پر خاموشی ان کے دوغلے پن کو آشکار کرتی ہے۔ یہ ریاست انسانیت کی دشمن ہے جس کے ہاتھ معصوم لوگوں کی خونوں سے رنگے ہیں۔ اس کے خلاف نہ صرف خطے کے ممالک کو اکھٹا ہونا چاہئے بلکہ عالمی برادری انسانوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے اپنے قوانین پر عمل کرکے اس ریاست کو لگام دینے میں اپنا کردار ادا کرے۔