قابض پاکستان کی طرف سے پروفیسرغممخوار حیات کی شہادت بلوچ قوم کی علم کشی کا تسلسل ہے۔ شولان بلوچ

قابض پاکستان کی طرف سے پروفیسرغممخوار حیات کی شہادت بلوچ قوم کی علم کشی کا تسلسل ہے۔
شولان بلوچ، ترجمان- بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد

قابض قوتوں کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ انہوں نے مقبوضہ قوم سے وابستہ ہر پہلو کو مسخ کرنے اور ختم کرنے کی کوشش کی ہے، ان کی نسل کشی، معاشی استحصال، ثقافتی استحصال سمیت ان کی علمی سفر کو روکنے کے لیے بے حساب خون بہائے۔ قابض انتہائی غیرمہذب ہوکر وہشیوں کی طرح دوسرے قوموں کی نشل کشی کرتی ہے، مگر ان تمام مظالم میں علم کشی بھی جابر ریاستوں کا ہتھکنڈہ رہا ہے جہاں وہ اس قوم کے اساتذہ، مفکر، پروفیسرز، ادیب اور دانشوروں کو چن چن کر قتل کرتا ہے تاکہ وہ مقبوضہ قوم کو علمی ترقی سے روک دے اور اسے علمی اور شعوری طور پر مفلوج کرے۔ اسی طرح پاکستانی مقبوضہ ریاست بلوچستان میں سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہے جہاں تمام مکتبہِ فکر کے لوگ اس کا شکار ہیں۔ ان میں علمی شعبے سے تعلق رکھنے والے اشخاص بھی ریاستی جبریت کا شکار ہوتے آرہے ہیں جو اس قوم کی نسل کشی میں علم کشی کے زمرے میں آتی ہے۔

قابض پاکستانی ریاست کی پشت پناہی میں چلنے والے سرکاری ڈیتھ اسکواڈ کی طرف سے ایک بلوچ ادیب پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ قوم کی علم کشی کا تسلسل ہے۔ پروفیسر غمخوار حیات ایک بلوچ پروفیسر اور ادیب تھے جنہوں نے براہوئی زبان کی ترقی و ترویج کے لیے انتہائی مثبت کام سرانجام دیے۔ ان کی ادبی جدوجہد بلوچ سماج میں نہ صرف سراہی جاتی ہے بلکہ ان کو بلوچ ادبی معاشرے میں استاد کا درجہ حاصل ہے۔ ان جیسے استادوں کا قتل بلوچ استادوں کی شعور کو روکنے کی سازش ہے تاکہ بلوچ سماج شعوری اور علمی میراث سے محروم ہوکر ایک مفلوج قوم بن کر رہ جائے۔

استاد جو قوموں کے علمی رہنما کی حیثیت سے اپنے معاشرے کو اندھیرے سے نکال کر علم کی روشنی کی طرف گامزن کرتے ہیں، اور ہر وہ شخص جو علم کا پرچار کرے اور اندھیروں سے لڑے وہ ظالم قوتوں کے نشانے پر ہوتے ہیں کیونکہ قبضہ گیر کی جڑیں ہمیشہ جھوٹی دلدل میں پیوست ہیں اور وہ ہمیشہ اس سچائی اور شعور سے خوفزدہ ہوتی ہے، اسی لیے وہ شعور کو دبانے کے لئے پوری انسانی معیار سے اتر کر وہشیوں جیسا برتاؤ رکھتا ہے۔
بلوچ قوم کے کئی استاد قابض پاکستانی ریاست کی جبریت کا شکار ہوئے ہیں، پروفیسر صبا دشتیاری، زاہد آسکانی، ماسٹر نزیر بلوچ، پروفیسر رزاق زہری، ماسٹر بیت اللہ سمیت کئی ایسے اساتذیں ہیں جنہیں پاکستانی ریاست نے نشانہ بنا کر قتل کردیا۔ یہ سارے مظالم قابض کی بوکھلاہٹ کی نشانیاں ہیں کیونکہ علم کبھی بھی کسی تشدد اور طاقت کے زریعے زیر نہیں ہوتی اور ناہی کوئی قوم ایسی نسل کشی سے ختم ہوتی ہے، بلکہ یہ تمام وہشیانہ جبر بلوچ قوم کے یاداشتوں میں پیوست ہوکر ایک مضبوط شعور پیدا ہوگی جو قابض کی وجود کو للکار کر اسے نیست و نابود کرے گی۔

Share to