8 جون بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کی مناسبت سے 10 روزہ سوشل میڈیا مہم چلایا جائے گا۔
ترجمان-بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد
بلوچستان میں جاری بلوچ نسل کشی کی سنگین صورتحال، جہاں آئے روز درجنوں افراد جبری گمشدگی کا شکار ہوتے ہیں اور مسخ شدہ لاشیں برآمد ہونے کے واقعات سامنے آتے ہیں، نے بلوچ عوام کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ بلوچستان میں شاید ہی کوئی ایسا گھر باقی ہو جہاں کسی نہ کسی فرد کو جبری طور پر لاپتہ نہ کیا گیا ہو۔ پوری دنیا جبری گمشدگی کو ایک سنگین جرم تصور کرتی ہے مگر پاکستان میں بلوچوں کی جبری گمشدگیوں کو مسلسل جواز فراہم کیا جاتا ہے جو خود بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
عالمی تناظر میں جبری گمشدگی کو انسانی حقوق کی ایک سنگین خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی صورتحال ہے جس میں کسی شخص کو ریاستی ادارے یا ان کی حمایت یافتہ عناصر گرفتار یا اغوا کر لیں اور بعد ازاں اس کی حراست یا مقام کے بارے میں معلومات فراہم نہ کریں۔
بین الاقوامی سطح پر جبری گمشدگی کو کئی وجوہات کی بنا پر انتہائی تشویش ناک قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف فرد کی آزادی اور سلامتی کے حق کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے خاندان کو بھی مسلسل ذہنی اذیت اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار کرتی ہے۔
اس مسئلے کے سدباب کے لیے United Nations نے International Convention for the Protection of All Persons from Enforced Disappearance منظور کی جس کا مقصد ریاستوں کو جبری گمشدگیوں کی روک تھام، مؤثر تحقیقات اور ذمہ داران کے احتساب کا پابند بنانا ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے Amnesty International اور Human Rights Watch، جبری گمشدگیوں کو قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتی ہیں اور اس کے خاتمے کے لیے مؤثر قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات پر زور دیتی ہیں۔
بلوچستان پر پاکستانی قبضے کے بعد سے بلوچ قوم کے خلاف جاری ریاستی پالیسیوں میں جبری گمشدگیاں ایک اہم اور تشویش ناک مسئلہ رہی ہیں۔ ہر سال 8 جون کو بلوچ مسنگ پرسنز ڈے منایا جاتا ہے۔ یہ دن زاکر مجید کی جبری گمشدگی کی یاد میں منایا جاتا ہے، جو بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے وائس چیئرمین تھے اور 8 جون 2009 کو جبری طور پر لاپتہ کیے گئے۔ ان کی گمشدگی کو کئی سال گزر جانے کے باوجود آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
بلوچ مسنگ پرسنز ڈے کے موقع پر بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد آج سے 10 روزہ سوشل میڈیا مہم کا آغاز کر رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو اجاگر کرنا، متاثرہ خاندانوں کی آواز دنیا تک پہنچانا اور انسانی حقوق کی اس سنگین خلاف ورزی کے بارے میں عالمی سطح پر شعور بیدار کرنا ہے۔ ہم تمام باشعور افراد، طلبہ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں، اس کے پیغام کو آگے پہنچائیں اور بلوچ عوام کو درپیش مسائل اور جبری گمشدگیوں کے حوالے سے عالمی آگاہی پیدا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔